سحر کا ہوش نہیں شام کا خدا حافظ
یہ ابتداء ہے تو انجام کا خدا حافظ
سنا نہ پائے تھے ہم اور وہ مسکرا بیٹھے
حکایتِ دلِ ناکام کا خدا حافظ
قرار لٹتا ہے پھر بھی دعائیں دیتا ہوں
کہ جانے والے کے ہر گام کا خدا حافظ
ہمیں تو سختیٔ راہ حیات راس آئی
سبک روانِ رہِ عام کا خدا حافظ
نظر نے چھیڑا فسانہ تو حشر جاگ اٹھا
مآل نامہ و پیغام کا خدا حافظ
کوئی گزر تو رہا ہے نظر چرائے ہوئے
تجلیات در و بام کا خدا حافظ
دھواں چراغِ حرم کا ہے غازۂ رخسار
نظارہ سازیٔ اصنام کا خدا حافظ
نظر ملانے لگے بوالہوس بھی جوہر سے
جناب کے کرمِ عام کا خدا حافظ
جوہر صدیقی
No comments:
Post a Comment