وہ جو آنکھوں سے مرے دل میں اتر جائے گا
روشنی بن کے ہر اک سمت بکھر جائے گا
دن گزارے گا بہرحال تِرے کوچے میں
رات آ جائے تو دیوانہ کدھر جائے گا
موج دریا نے ڈبویا تھا جسے ساحل پر
کیا خبر تھی کہ وہ طوفاں سے ابھر جائے گا
چاندنی رات میں اک اور قیامت ہو گی
رنگ چہرے کا تِرے اور نکھر جائے گا
تجھ سے بچھڑا ہوں مگر ربط ہے اتنا کوثر
دل کا ہر زخم تِری یاد سے بھر جائے گا
محب کوثر
No comments:
Post a Comment