Friday, 7 January 2022

وہ جو آنکھوں سے مرے دل میں اتر جائے گا

 وہ جو آنکھوں سے مرے دل میں اتر جائے گا

روشنی بن کے ہر اک سمت بکھر جائے گا

دن گزارے گا بہرحال تِرے کوچے میں

رات آ جائے تو دیوانہ کدھر جائے گا

موج دریا نے ڈبویا تھا جسے ساحل پر

کیا خبر تھی کہ وہ طوفاں سے ابھر جائے گا

چاندنی رات میں اک اور قیامت ہو گی

رنگ چہرے کا تِرے اور نکھر جائے گا

تجھ سے بچھڑا ہوں مگر ربط ہے اتنا کوثر

دل کا ہر زخم تِری یاد سے بھر جائے گا


محب کوثر

No comments:

Post a Comment