Friday, 7 January 2022

بوئے گل چاہتے ہیں رقص صبا چاہتے ہیں

 بوئے گل چاہتے ہیں رقص صبا چاہتے ہیں

بند کمروں کے مکیں تازہ ہوا چاہتے ہیں

مفلسی ہوش اڑا دیتی ہے انسانوں کے

یہ نشہ کم ہو تو دولت کا نشہ چاہتے ہیں

کب کہا ہم نے کسی زہرہ جبیں کی ہے تلاش

جو ہمیں ڈھونڈ سکے اس کا پتا چاہتے ہیں

یہ بھی منظور نہیں چاند کے باشندوں کو

ہم گھنی رات میں مٹی کا دیا چاہتے ہیں

ہم سے ناراض ہیں سورج کی شعاعیں تو رہیں

ہم تو بس روشنیٔ غار حرا چاہتے ہیں

سب کو ملتا ہے یہ انداز فقیرانہ کہاں

ہم پریشاں ہیں مگر سب کا بھلا چاہتے ہیں

جن کا سر دیکھ کے کاسے کا گماں ہو معصوم

وہ بھی اس دور میں دستار انا چاہتے ہیں


معصوم انصاری

No comments:

Post a Comment