Friday, 7 January 2022

اپنے آقا کے مدینے کی طرف دیکھتے ہیں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


اپنے آقاﷺ کے مدینے کی طرف دیکھتے ہیں

دل الجھتا ہے تو سینے کی طرف دیکھتے ہیں

اب یہ دنیا جسے چاہے اسے دیکھے سرِ سیل

ہم تو بس ایک سفینے کی طرف دیکھتے ہیں

عہدِ آسودگئ جاں ہو کہ دورِ ادبار

اُسی رحمت کے خزینے کی طرف دیکھتے ہیں

وہ جو پل بھر میں سرِ عرشِ بریں کُھلتا ہے

بس اسی نور کے زینے کی طرف دیکھتے ہیں

بہرِ تصدیقِ سندنامۂ نسبت، عشاق

مُہرِ خاتمؐ کے نگینے کی طرف دیکھتے ہیں

دیکھنے والوں نے دیکھے ہیں وہ آشفتہ مزاج

جو حرم سے بھی مدینے کی طرف دیکھتے ہیں


افتخار عارف

No comments:

Post a Comment