عشق والوں کا دِین تنہائی
وحشتوں کی امین تنہائی
روز اک زخم پیدا کرتی ہے
دل کی وحشت نشین تنہائی
بھر گیا چپ سے آسماں کا خلا
کھا گئی سب زمین تنہائی
چاہ کر بھی کسے ملے ہیں کبھی
خواب، زن، زر، زمین، تنہائی
اب فقط میرے ساتھ میں ہی ہوں
کر لے میرا یقین تنہائی
ایک مجمع ہے دل لگانے کو
اور میرے قرین تنہائی
غم کی لو سے نمود پاتے ہیں
ذات، وحشت،جبین، تنہائی
پہلے ہم تم تھے اور خوشیاں تھیں
اب ہے گھر میں مکین تنہائی
اس کے ہنسنے سے رنگ بنتے ہیں
اس کا ہنسنا نہ چھین تنہائی
رقص کرتے ہیں سانپ بن کر دکھ
جب بجاتی ہے بین تنہائی
آ گیا اک خیال کا جھونکا
بن گئی بہترین تنہائی
ذوقِ تخلیق کو ضروری ہے
اے، حنا عنبرین! تنہائی
حنا عنبرین
No comments:
Post a Comment