عارفانہ کلام نعتیہ کلام
یہ دل سکونت خیرالانامﷺ ہو جائے
دکھوں بلاؤں کی میرے بھی شام ہو جائے
میں حسنِ آقاؐ کے ہر زاویے پہ نعت لکھوں
مجھے جو جلوہ ماہِ تمامﷺ ہو جائے
عطا ہو طوقِ گدائی حضورﷺ مجھ کو اگر
تو دو جہانوں میں میرا بھی نام ہو جائے
وضو کریں جو سخن آبِ عشق و مستی سے
تو اؐن کی شان میں اعلیٰ کلام ہو جائے
نظر ہو گنبدِ خضریٰ پہ اور موت آئے
کہ اس طرح سے یہ لطفِ دوام ہو جائے
یہ آرزو ہے قیامت میں آپؐ سے یہ کہوں
حضورؐ آپ کے ہاتھوں سے جام ہو جائے
میں چاہتا ہوں فرشتے بھی قبر میں یہ کہیں
کہ اٹھ خلیل! درود و سلامﷺ ہو جائے
خلیل الرحمٰن خلیل
No comments:
Post a Comment