جدا ہوں دل سے غموں کے سائے تو نیند آئے
بچھڑنے والا جو لوٹ آئے، تو نیند آئے
بس آج کی رات چھوڑ دو ضد، اسے نہ سوچو
کہا ہے دل سے، جو مان جائے، تو نیند آئے
یہ ایک سایہ جو میرے پہلو میں سو رہا ہے
حصار چاہت میں گر سلائے تو نیند آئے
نہ جانے کیسی مسافتیں ہیں جو ہم نے اوڑھیں
نشانِ منزل کوئی دکھائے تو نیند آئے
مِرا قبیلہ نہ چھوڑ جائے پڑاؤ میں ہی
یقین اس کا مجھے دلائے تو نیند آئے
یہ جلتے خیمے، یہ آہ و زاری، یہ نوحہ ماتم
حرا! یہ منظر کوئی ہٹائے تو نیند آئے
حرا رانا
No comments:
Post a Comment