Monday, 10 January 2022

تکلیف التفات گریزاں کبھی کبھی

 تکلیف التفات گریزاں کبھی کبھی

یوں بھی ہوئی ہے پرسش پنہاں کبھی کبھی

معراج دید جلوۂ جاناں کبھی کبھی

ہم بھی رہے ہیں نازش دوراں کبھی کبھی

یہ اور بات ربط مسلسل نہ کہہ سکیں

چوما ہے ہم نے دامن جاناں کبھی کبھی

نقش خیال آپ کی تصویر بن گیا

یہ معجزہ ہوا ہے نمایاں کبھی کبھی

بندہ نوازئ کرم گاہ گاہ سے

ہم بھی تھے کائنات بداماں کبھی کبھی

لغزش کی بات ورثۂ آدم کی بات ہے

کھاتا ہے ٹھوکریں دل انساں کبھی کبھی

کروٹ بدل گئی ہے تری وضع التفات

دیکھا ہے یہ بھی خواب پریشاں کبھی کبھی

یہ سرکشی کے نام سے منسوب ہی سہی

ہوتا ہے دل بھی سر بہ گریباں کبھی کبھی

اکثر نشاط سیر گلستان بے خزاں

اندازۂ فریب بہاراں کبھی کبھی

میرے لبوں پہ موج تبسم کے باوجود

غم ہو گیا ہے رخ سے نمایاں کبھی کبھی

کہنا پڑا ہے جلوۂ صد رنگ روکئے

نظریں ہوئی ہیں اتنی پریشاں کبھی کبھی

خود اپنے آس پاس اندھیروں کو دیکھ کر

گھبرا اٹھی ہے صبح بہاراں کبھی کبھی

دامن بچا کے ہم تو گزر جائیں اے عروجؔ

خود چھیڑتی ہے گردش دوراں کبھی کبھی


عروج زیدی

No comments:

Post a Comment