Sunday, 9 January 2022

دکھے دل کو ہنسانا چاہتی ہوں

دُکھے دل کو ہنسانا چاہتی ہوں

میں سب کے کام آنا چاہتی ہوں

نہیں ہے کوئی جن کا اس جہاں میں

میں ان کے دکھ بٹانا چاہتی ہوں

وہ زمانہ جنہیں بُھلا بیٹھا

گلے ان کو لگانا چاہتی ہوں

جُز محبت نہیں کہیں کچھ بھی

یہ دُنیا کو بتانا چاہتی ہوں

چراغ ان نفرتوں کی بستیوں میں

محبت کے جلانا چاہتی ہوں

نکل آئے کسی کی آنکھ سے جو

میں وہ آنسو چُرانا چاہتی ہوں

بہت رنجور ہیں جو ان کی خاطر

میں شازی مُسکرانا چاہتی ہوں


شازیہ عالم شازی

No comments:

Post a Comment