Sunday, 9 January 2022

ہاتھ میں اپنے حفاظت کا عصا لے جانا

 ہاتھ میں اپنے حفاظت کا عصا لے جانا

گھر سے جانا تو بزرگوں کی دعا لے جانا

بات جب ترکِ تعلق ہی پہ آ پہنچی ہے

اپنے خط بھی مِرے کمرے سے اٹھا لے جانا

جیب خالی ہے مگر دل میں بڑی وسعت ہے

تم مِرے گاؤں کے لوگوں سے وفا لے جانا

تیرے ہاتھوں میں ہے پتوار مِری کشتی کی

تُو جدھر چاہے اسی سمت بہا لے جانا

مجھ سے ملنے کے لیے وہ بھی تڑپتا ہو گا

میرے خوابو! مجھے ہاتھوں پہ اٹھا لے جانا

پگڑیاں روز اچھلتی ہوں جہاں پر اعجاز

ہم نے سیکھا وہاں عزت کو بچا لے جانا


اعجاز انصاری

No comments:

Post a Comment