یہ اور بات ہے ہمیں شوقِ فغاں نہ تھا
ورنہ ہمارا کون سے لمحے زیاں نہ تھا
جس کا یقین تھا وہ نہیں رونما ہوا
جو ہو رہا ہے اس کا کسی کو گماں نہ تھا
اس وقت بھی تھا عشق خلاؤں میں موجزن
جس وقت اہتمامِ زمان و مکاں نہ تھا
وہ بے کلی کہ جو مجھے جاں سے عزیز تھی
وہ زخمِ نارسائی جو دل پر گراں نہ تھا
ساون شبیر
No comments:
Post a Comment