نگاہ بھی نہ اٹھی اور عشق رسوا ہے
فراقؔ اتنی بھی حیرت نہ کر، یہ دنیا ہے
کیا ہے قید محبت کو رسمِ دنیا نے
اٹھا کے توڑ دے زنجیر دیکھتا کیا ہے
تِری تلاش، تِری جستجو کہاں لائی
ارے یہاں تو نہ دنیا ہی ہے نہ عقبیٰ ہے
طلسمِ ہوش ہے عالم، فریبِ غفلت بھی
عجیب جلوہ گری ہے عجیب پردا ہے
بہت دنوں پہ تجھے مہربان پاتا ہوں
کہ یہ بھی وہم ہے دل کا، نظر کا دھوکا ہے
شکستِ سازِ چمن،۔ نغمۂ بہار بنی
تجھے خبر بھی ہے یہ سازِ رنگ و بو کیا ہے
ازل سے تابہ ابد،عشق ایک حال میں ہے
سزا جزا میں قیامت کے دن دھرا کیا ہے
ہر ایک محرمِ بے گانہ ہے محبت میں
نہ کوئی غیر یہاں ہے نہ کوئی اپنا ہے
ضرور چوٹ کوئی رہ گئی کہیں نہ کہیں
کہ آج تک دلِ ہستی میں درد اٹھتا ہے
جہاں ہیں سیکڑوں ہنگامے اپنی بھی کہہ دے
سنائے جا، یہ فسانہ بھی کون سنتا ہے
میں کہہ رہا ہوں نبھے گی نہ مجھ سے شرطِ وفا
وہ روٹھ بھی نہیں جاتے یہ ماجرا کیا ہے
زمانے کا ہے یہ عالم تیرے تلوّن سے
جہاں نے رنگ بدلنا تجھی سے سیکھا ہے
تِرا جمال وہی ہے وہی ہوں میں، لیکن
نظر اٹھاتے ہوئے آج دل دھڑکتا ہے
اگرچہ کون کہے کیا ہے حاصلِ غمِ عشق
سنا تو ہے کہ مصیبت میں کام آتا ہے
No comments:
Post a Comment