Saturday, 16 April 2022

آنکھ مری ڈھونڈتی ہے کسی ہرجائی کو

 ہرجائی


کھیتوں سے دور دمکتے ہوئے دوراہے پر

اک سرشار جواں کو میں نے کھڑے پایا تھا

تمتماتے ہوئے چہرے پر سلگتی ہوئی آنکھیں

جیسے کسی مہکے ہوئے گلزار کا خواب آیا تھا

سر پر گاگر کے چھلکنے سے جو تارے ٹوٹے

آسماں جھانک رہا تھا مجھے حیرانی سے

ٹن سے لگا کنکر جو مِری حسیں گاگر پر

اک نغمہ سا الجھنے لگا پیشانی سے

ٹوٹتی رات گئے وہ گھر کو پلٹنا میرا

اک لپکتے ہوئے سائے نے ڈرایا تھا مجھے

تم اری تم (وہ ہی سرشار جواں تھا شاید)

جی یونہی مِری اک سہیلی نے بلایا تھا مجھے

کانچ کی چوڑیاں کل رات نہ ہوں ہاتھوں میں

اس قدر اونچی تِری پازیب کی جھنکار نہ ہو

سرسراتا ہوا ملبوس لہرا نہ جائے کہیں

کسی سائے کا گماں پس دیوار نہ ہو

چاند سے جب پگھلی ہوئی چاندی برسی

اونگھتی ہوئی رات کے شانے کو جھنجھوڑا ہم نے

بھول کر بھی پلکیں نہ جھپکنے پائیں

اس قدر نیند کو آنکھوں سے نچوڑا ہم نے

اب کہ چاندنی رات آ کر گزر جاتی ہے

کوئی پوچھتا ہی نہیں مِری تنہائی کو

کھیتوں سے دور دمکتے ہوئے دوراہے پر

آنکھ مِری ڈھونڈتی ہے کسی ہرجائی کو​


قتیل شفائی

No comments:

Post a Comment