گنہگاروں کے کیا کہنے
جنہوں نے پارسائی کا کوئی جبہ نہیں پہنا
کہ جو اپنی سیاہی پر
کسی اجلی قبا کی کوئی معذوری نہیں رکھتے
جنہیں زعمِ تقدس ہے نہ دعوی برتری کا ہے
کہ جو ہیں اور جیسے ہیں وہی ہیں سامنے ہیں
سامنے والوں کے کیا کہنے
کبھی خود پر ہنسیں، اور پھر ملامت سے بھرا دل
یار کی دہلیز سے مس کر کے روتے ہیں
یہ اہلِ تہمت و تضحیک جب جب اپنے رب کو یاد کرتے ہیں
تو سب جن و ملک بھی خود سے کہتے ہیں کہ کیا کہنے
اسی دم ایک مجذوبِ ملامت رقص کر کے ایسے کہتا ہے
خطائیں بخشنے والا
خدا، ( میرا تمہارا اور ہم سب کا بہت اپنا خدا)
اس کے سوا کیا چاہتا ہے
ابنِ آدم! اپنی گمراہی پہ نادم ہو کے واپس مڑ
پلٹ
اس قریۂ شاداب کی جانب
جہاں وہ رحمتِ بے حد کھڑی ہے
جو تِرے میرے گناہوں کی سیاہی سے بڑی ہے
منتظر ہر دم
کسی خدشے سے مت گھبرا
اگر سجدوں سے خالی ہے تو پھر کیا ہے
ملامت یافتہ آنکھوں کا نم لے جا
کہ کیا معلوم وہ سچی صدا
یہ کہہ کے رستہ دے کہ آنے دو
گنہگارِ عجب کو راستہ دے دو
کہ یہ جو تھا وہ تھا
لیکن ریاکاری نہ کرتا تھا
خطا کاری پہ نادم تھا
اداکاری نہ کرتا تھا
خطا کاروں کے کیا کہنے
گنہگاروں کے کیا کہنے
سیہ کاروں کے کیا کہنے
ہم اندھوں میں
ہم اندھوں کی طرح ہی رہنے والے
تیرے بیداروں کے کیا کہنے
خدایا! تیرے کیا کہنے
علی زریون
No comments:
Post a Comment