کیا جانے کہہ گئی ہے وہ کیا میرے کان میں
سر گوشیاں سی ہونے لگیں آسمان میں
دل کو کسی کی یاد سے خالی نہ کیجئے
آسیب رہنے لگتے ہیں خالی مکان میں
خوابوں کو بیچ دوں ابھی اتنا نہیں غریب
رکھی ہیں صرف آنکھیں ہی میں نے دوکان میں
سر کاٹ کر علم کی طرح خود اٹھا لیا
کچھ فرق آ نہ جائے کہیں آن بان میں
جو کر سکے تو دل سے تعلق کی قدر کر
رشتوں کا اعتبار نہیں ہے جہان میں
سوغات پتھروں کی ملے گی پڑوس سے
پھلدار کوئی پیڑ لگا لو مکان میں
محمد احمد علوی
No comments:
Post a Comment