Saturday, 16 April 2022

کیا جانے کہہ گئی ہے وہ کیا میرے کان میں

 کیا جانے کہہ گئی ہے وہ کیا میرے کان میں

سر گوشیاں سی ہونے لگیں آسمان میں

دل کو کسی کی یاد سے خالی نہ کیجئے

آسیب رہنے لگتے ہیں خالی مکان میں

خوابوں کو بیچ دوں ابھی اتنا نہیں غریب

رکھی ہیں صرف آنکھیں ہی میں نے دوکان میں

سر کاٹ کر علم کی طرح خود اٹھا لیا

کچھ فرق آ نہ جائے کہیں آن بان میں

جو کر سکے تو دل سے تعلق کی قدر کر

رشتوں کا اعتبار نہیں ہے جہان میں

سوغات پتھروں کی ملے گی پڑوس سے

پھلدار کوئی پیڑ لگا لو مکان میں


محمد احمد علوی

No comments:

Post a Comment