Sunday, 11 September 2022

تعبیر کی قیمت تو چکائے نہ بنے ہے

 تعبیر کی قیمت تو چُکائے نہ بنے ہے

آنکھوں سے مگر خواب مٹائے نہ بنے ہے

تم ہو کہ ہر ایک بات میں سو بات کرو ہو

ہم سے تو کوئی بات بنائے نہ بنے ہے

کمبخت میرا دل بھی تو حساس بہت ہے

اپنوں سے کوئی لو بھی لگائے نہ بنے ہے

کردار نہ گر جائیں زمانے کی نظر سے

یہ سوچ کے افسانے سنائے نہ بنے ہے

اشکوں کا سمندر بھی کھڑا سوچ رہا ہے

"وہ آگ لگی ہے کہ بجھائے نہ بنے ہے"

یہ کیسی محبت ہے میری، تشنہ لبی سے

دریا میں ہوں اور پیاس بجھائے نہ بنے ہے

اے وحشت دل! دیکھ، مِرے ہاتھ بندھے ہیں

صحرا میں بھی اب خاک اڑائے نہ بنے ہے


حسن امام رضوی

No comments:

Post a Comment