سریلے حسن
اے شہتوت سی لذت بھری آواز والی
کاسنی خوشبو
سماعت کو رسیلا کر
بدن وشواس کرتے تھک گیا ہے
ایک بوسہ (ایک دھوکہ) اور دے
اور اس کو نیلا کر
یہ ساعت
قرب کی یکطرفہ چاہت کی اسیری ہے
جسے تُو چاہتی تھی اور حاصل کر نہیں پائی
اسے مجھ میں نظارہ کر کے کیفیت کو طاری کر
تجھے میرے لیے خصلت بدلنے کی ضرورت نئیں
مجھے معلوم ہے تجھ کو محبت نئیں
مجھے بھی نئیں
سو تُو ڈر مت
مکمل مَکر کر
اس وقت تجھ پر مَکر واجب ہے
تجھے اپنے لیے کوئی گواہی چاہئے ہو گی تو میں دوں گا
وہ خیر الماکریں ہے بخش دیتا ہے
بس آدم ہے کہ جو چکھنے، نگلنے اور اگلنے میں
کوئی دیری نہیں کرتا
سو تُو ڈر مت
کہ تُو یوں بھی مِرے پہلو کی اک تاریخ اور تصدیق رکھتی ہے
سریلی کاسنی خوشبو
مجھے اپنے محبت مَکر سے بھر دے
مجھے
زانی نہ ہونے دے
علی زریون
No comments:
Post a Comment