Saturday, 5 November 2022

مسیح بن کے کوئی معجزہ دکھا دینا

مسیح بن کے کوئی معجزہ دِکھا دینا

جگر کا درد ہو کم جس سے وہ دوا دینا

کہیں گی دیکھ کے تم کو بہشت میں حُوریں

ہمیں بھی موہنی صورت ذرا دکھا دینا

فراقِ یار میں لذّت نہیں ہے جینے کی

پلا کے زہر مجھے شام سے سُلا دینا

خُدا غریب کی سُنتا ہے غیب سے فریاد

بہت ہے ہاتھ دُعا کے لیے اُٹھا دینا

وہ فاتحہ کو جو آئے کہا یہ شوخی نے

چراغِ قبر ذرا ہاتھ سے بُجھا دینا

جو کوہِ طُور پہ موسٰیؑ کو آئی تھی آواز

وہی صدا دمِ رُخصت مجھے سُنا دینا

یہ کہہ کے قتل سے میرے اُٹھائے ہاتھ اُس نے

کہ بے قصور کو لازم نہیں سزا دینا

کہیں نہ حشر میں بھی دِید سے رہوں محروم

کیا ہے وعدہ تو صُورت ہمیں دکھا دینا

سنیں وہ یا نہ سنیں اختیار ہے ان کو

ہمیں حقیقتِ دل فرض ہے سنا دینا

نہیں ہے کوچہ الفت مقام آسائش

یہ بات حضرت عِشرت کو بھی سُنا دینا​


عشرت لکھنوی

خواجہ محمد عبدالرؤف

No comments:

Post a Comment