Friday, 4 November 2022

کچھ اور زمانہ کہتا ہے کچھ اور ہے ضد میرے دل کی

فلمی گیت


 کچھ اور زمانہ کہتا ہے کچھ اور ہے ضد میرے دل کی

میں بات زمانہ کی مانوں یا بات سنوں اپنے دل کی

دنیا نے ہمیں بے رحمی سے ٹھکرا جو دیا اچھا ہی کیا

ناداں ہیں سمجھے بیٹھے تھے نبھتی ہے یہاں دل سے دل کی

انصاف محبت سچائی وہ رحم و کرم کے دکھلاوے

کچھ کہتے زباں شرماتی ہے پوچھو نہ جلن میرے دل کی

جو بستی ہے انسانوں کی انسان مگر ڈھونڈھے نہ ملا

پتھر کے بتوں سے کیا کیجے فریاد بھلا ٹوٹے دل کی


شیلندر

No comments:

Post a Comment