نظر سے میری خمار اترا تو میں نے دیکھا
جو شب کا میرا سنگھار اترا تو میں نے دیکھا
تھے اوٹ میں چاہتوں کی کیا کیا عجیب جذبے
محبتوں کا غبار اترا تو میں نے دیکھا
یہ ناگ تنہائیوں کے گردن میں آ پڑے ہیں
جب اس کی بانہوں کا ہار اترا تو میں نے دیکھا
تمہارا پیکر، تمہارا سایہ، تمہاری خوشبو
جو شب کی آنکھوں میں پیار اترا تو میں نے دیکھا
چمن کہ خون جگر کے قطرے تھے اس میں شامل
جو ان گلوں پر نکھار اترا تو میں نے دیکھا
غزالہ تبسم خاکوانی
No comments:
Post a Comment