Sunday, 15 September 2024

سلسلہ ختم کر چلے آئے

سلسلہ ختم کر چلے آئے

وہ اُدھر ہم اِدھر چلے آئے

میں نے تو آئینہ دکھایا تھا

آپ کیوں رُوٹھ کر چلے آئے

دل نے پھر عشق کی تمنا کی

راہ پھر پُر خطر چلے آئے

دُور تک کچھ نظر نہیں آتا

کیا بتائیں کِدھر چلے آئے

میں جُھکا تھا اُسے اُٹھانے کو

سب مجھے روند کر چلے آئے

اے ضیا دل ہے بھر نہ آئے کیوں

کیا ہُوا اشک گر چلے آئے


سبھاش پاٹھک ضیا 

No comments:

Post a Comment