Sunday, 27 April 2025

ہے شہر بھر پہ ترا اختیار مان گئے

ہے شہر بھر پہ تِرا اختیار، مان گئے

تبھی تو جیتے ہوئے لوگ ہار مان گئے

تو سچ ہی کہتا رہا سب ہنسی اڑائیں گے

کوئی ملا ہی نہیں غمگسار، مان گئے

ہمارے گاؤں میں دو چار ہی تو ضدی تھے

ہیں دو ابھی بھی اٗڑے ضد پہ چار مان گئے

کہا گیا تھا کہ رکھ دیجے اک طرف ہتھیار

بہت ہی دٗکھ ہوا جب شہسوار مان گئے

بچھا کے رکھا ہے اک جال اور بلایا ہے

بٗرا پھنسیں گے اگر اب کی بار مان گئے

نہ کوئی عزت و ذلت کا خوف ہے دل میں

عزیز تجھ کو فقط اقتدار، مان گئے


کومل جوئیہ

No comments:

Post a Comment