اک گھڑی جذبۂ نفرت کے سوا چاہتی ہے
زندگی تجھ سے محبت کی دعا چاہتی ہے
کیا کروں دوست تو اتنے بھی نہیں ہیں میرے
روز یہ روح کوئی زخم نیا چاہتی ہے
کیا عجب طور سے کرتی ہے شکست اپنی قبول
اب یہ دنیا کوئی ہنگامہ بپا چاہتی ہے
جس محبت کے لبوں سے کبھی جھڑتے تھے گلاب
اب وہی لہجۂ آشفتہ نوا چاہتی ہے
جان کو زخم تمنا سے افاقہ نہ ہوا
پھر نئے عشق میں پیمان وفا چاہتی ہے
شہرتیں ڈھل گئیں اک عمر کی مانند سو اب
موج رسوائی مرے گھر کا پتا چاہتی ہے
میرے ہونٹوں کی تمنا بھی عجب ہے آفاق
اس کے رخسار پہ اک پھول کھلا چاہتی ہے
مقصود آفاق
No comments:
Post a Comment