آہ کب تُو نے بے وفائی کی
بات الگ ہے غمِ جدائی کی
ایک تصویر تھی وصال کی رات
آپ کے لطفِ انتہائی کی
شانِ بیگانگی کا کیا کہنا
کوئی افسانہ چھیڑ، تنہائی
رات کٹتی نہیں جدائی کی
جلوۂ ہستئ جہاں کیا تھا
اک ادا تیری خودنمائی کی
ہم سے کیا ہو سکا محبت میں
تُو نے تو خیر بے وفائی کی
نزع میں یاد اسی کی آئی فراقؔ
عمر بھر جس نے بے وفائی کی
فراق گورکھپوری
No comments:
Post a Comment