بازئ عشق کی پوچھ نہ بات
جیت کی جیت ہے مات کی مات
وہ اور نہ ٹھہرے رات کی رات
سچ ہے، بن آئے کی بات
چھِڑ گئی ان آنکھوں کی بات
کٹتے کٹتے کٹتی ہے
ہجر کی گھٹتی بڑھتی رات
عشق کی دنیا نیاری ہے
اس نگری میں دن ہے نہ رات
چال نہ چلنے تک ہے خیر
چال آتے ہی بازی مات
رمز و کنایہ کی ہی جان
اس کی سیدھی سادی بات
قاتل اس کو کون کہے؟
ہنس مُکھ آنکھیں، کوئل گات
ہجر میں پہلی نگاہ کا ذکر
کب یاد آئی کب کی بات
اڑی نیند سے پوچھ فراقؔ
آئی ہو گی کتنی رات
فراق گورکھپوری
No comments:
Post a Comment