Saturday, 7 November 2015

بازی عشق کی پوچھ نہ بات

بازئ عشق کی پوچھ نہ بات
جیت کی جیت ہے مات کی مات
وہ اور نہ ٹھہرے رات کی رات
سچ ہے، بن آئے کی بات
چھِڑ گئی ان آنکھوں کی بات
دنیا میں اب دن ہو کہ رات
کٹتے کٹتے کٹتی ہے
ہجر کی گھٹتی بڑھتی رات
عشق کی دنیا نیاری ہے
اس نگری میں دن ہے نہ رات
چال نہ چلنے تک ہے خیر
چال آتے ہی بازی مات
رمز و کنایہ کی ہی جان
اس کی سیدھی سادی بات
قاتل اس کو کون کہے؟
ہنس مُکھ آنکھیں، کوئل گات
ہجر میں پہلی نگاہ کا ذکر
کب یاد آئی کب کی بات
اڑی نیند سے پوچھ فراقؔ
آئی ہو گی کتنی رات

فراق گورکھپوری

No comments:

Post a Comment