Sunday, 10 January 2016

اک اک پتھر جوڑ کے میں نے جو دیوار بنائی تھی

اک اک پتھر جوڑ کے میں نے جو دیوار بنائی تھی
جھانکوں اس کے پیچھے تو رسوائی ہی رسوائی تھی
یوں لگتا ہے سوتے جاگتے اوروں کا محتاج ہوں
آنکھیں میری اپنی ہیں، پر ان میں نیند پرائی ہے
دیکھ رہے ہیں سب حسرت سے نیلے نیلے پانی کو
پوچھے کون سمندر سے تجھ میں کتنی گہرائی ہے
آج ہوا معلوم مجھے اس شہر کے چند سایوں سے
اپنی راہ بدلتے رہنا سب سے بڑی دانائی ہے
توڑ گئے پیمانِ وفا اس دور میں کیسے کیسے لوگ
یہ مت سوچ قتیلؔ کہ بس اک یار تیرا ہرجائی ہے

قتیل شفائی

No comments:

Post a Comment