فلمی گیت
چاندنی رات میں اک بار تجھے دیکھا ہے
خود پہ اتراتے ہوئے خود سے شرماتے ہوئے
چاندنی رات میں اک بار تجھے دیکھا ہے
نیلے امبر پہ کہیں جھولے میں
سات رنگوں کے حسیں جھولے میں
خود پہ اتراتے ہوئے، خود سے شرماتے ہوئے
چاندنی رات میں اک بار تجھے دیکھا ہے
جاگتی جھیل کے ساحل پہ کہیں
لے کہ ہاتھوں میں کوئی سازِ حسیں
ایک رنگین غزل گاتے ہوئے
پھول برساتے ہوئے، پیار چھلکاتے ہوئے
چاندنی رات میں اک بار تجھے دیکھا ہے
کھل کے بکھرے جو مہکتے گیسو
گھل گئی جیسے ہوا میں خوشبو
میری ہر سانس کو مہکاتے ہوئے
خود پہ اتراتے ہوئے، خود سے شرماتے ہوئے
چاندنی رات میں اک بار تجھے دیکھا ہے
تُو نے چہرے پہ جھکایا چہرہ
میں نے ہاتھوں سے چھپایا چہرہ
لاج سے شرم سے گھبراتے ہوئے
پھول برساتے ہوئے، پیار چھلکاتے ہوئے
چاندنی رات میں اک بار تجھے دیکھا ہے
اک بار تجھے دیکھا ہے، چاندنی رات میں
چاندنی رات میں
نقش لائلپوری
جسونت رائے شرما
No comments:
Post a Comment