Saturday, 17 December 2016

عشق کرتا ہوں اسی بے سر و سامانی میں

صبح کے شور میں، ناموں کی فراوانی میں
عشق کرتا ہوں اسی بے سر و سامانی میں
سورما جس کے کناروں سے پلٹ جاتے ہیں
میں نے کشتی کو اتارا ہے اسی پانی میں
صوفیہ تم سے ملاقات کروں گا اک روز
کسی سیارے کی جلتی ہوئی عریانی میں
میں نے انگور کی بیلوں میں تجھے چوم لیا
کر دیا اور اضافہ تِری حیرانی میں
کتنا پُر شور ہے جسموں کا اندھیرا ثروتؔ
گفتگو ختم ہوئی جاتی ہے جولانی میں

ثروت حسین

No comments:

Post a Comment