Saturday, 17 December 2016

دل ہی دل میں وہ ہے خفا مجھ سے

دل ہی دل میں وہ ہے خفا مجھ سے
جانے کیا ہو گئی خطا مجھ سے
دل میں خواہش ہے مان جانے کی
پھر بھی کرتا نہیں گِلہ مجھ سے
جاتے جاتے نظر جھکا لی تھی
اس نے کہنا تھا جانے کیا مجھ سے
ربط سانسوں میں نہ رہے باقی
ایسے توڑو نہ رابطہ مجھ سے 
اس نے سمجھوتہ کر لیا ہو گا
ورنہ الجھے نہ ہر دعا مجھ سے
اس سے پہلے تو مان جا، نہ کہیں 
روٹھ جائے مِرا خدا مجھ سے

پریا تابیتا

No comments:

Post a Comment