دل ہی دل میں وہ ہے خفا مجھ سے
جانے کیا ہو گئی خطا مجھ سے
دل میں خواہش ہے مان جانے کی
پھر بھی کرتا نہیں گِلہ مجھ سے
جاتے جاتے نظر جھکا لی تھی
ربط سانسوں میں نہ رہے باقی
ایسے توڑو نہ رابطہ مجھ سے
اس نے سمجھوتہ کر لیا ہو گا
ورنہ الجھے نہ ہر دعا مجھ سے
اس سے پہلے تو مان جا، نہ کہیں
روٹھ جائے مِرا خدا مجھ سے
پریا تابیتا
No comments:
Post a Comment