فلمی گیت
تم دور ہو تو پیار کا موسم نہ آئے گا
اب کے برس بہار کا موسم نہ آئے گا
تم دور ہو تو پیار کا موسم
چوموں گا کس کی زلف گھٹاؤں کو دیکھ کر
چھلکے شراب، برق گرے یا جلیں چراغ
ذکرِ نگاہِ یار کا موسم نہ آئے گا
وعدہ خلافیوں کو ترس جاۓ گا یقیں
راتوں کو انتظار کا موسم نہ آئے گا
تجھ سے بچھڑ کے زندگی ہو جائے گی طویل
احساس کے نکھار کا موسم نہ آئے گا
اسد بھوپالی
No comments:
Post a Comment