Saturday, 5 September 2020

تم دور ہو تو پیار کا موسم نہ آئے گا

فلمی گیت

تم دور ہو تو پیار کا موسم نہ آئے گا
اب کے برس بہار کا موسم نہ آئے گا
تم دور ہو تو پیار کا موسم 
چوموں گا کس کی زلف گھٹاؤں کو دیکھ کر
اک جرم خوش گوار کا موسم نہ آئے گا
چھلکے شراب، برق گرے یا جلیں چراغ
ذکرِ نگاہِ یار کا موسم نہ آئے گا
وعدہ خلافیوں کو ترس جاۓ گا یقیں
راتوں کو انتظار کا موسم نہ آئے گا
تجھ سے بچھڑ کے زندگی ہو جائے گی طویل
احساس کے نکھار کا موسم نہ آئے گا

اسد بھوپالی

No comments:

Post a Comment