Sunday, 6 September 2020

اک مسلسل عذاب لے جانا

اک مسلسل عذاب لے جانا
میری آنکھوں کے خواب لے جانا
فاصلے جب فریب دینے لگیں
قربتوں کے سراب لے جانا
لوٹ آنا کبھی جو ممکن ہو
اور یادوں کے باب لے جانا
اس سے پہلے کہ رت بدل جائے
اپنے سارے گلاب لے جانا
تشنگی، آس، تیرگی زاہد
کوئی تو اضطراب لے جانا

زاہد مسعود

No comments:

Post a Comment