اک مسلسل عذاب لے جانا
میری آنکھوں کے خواب لے جانا
فاصلے جب فریب دینے لگیں
قربتوں کے سراب لے جانا
لوٹ آنا کبھی جو ممکن ہو
اس سے پہلے کہ رت بدل جائے
اپنے سارے گلاب لے جانا
تشنگی، آس، تیرگی زاہد
کوئی تو اضطراب لے جانا
زاہد مسعود
No comments:
Post a Comment