Sunday, 6 September 2020

وہ نہ ہو گا تو کیا کمی ہو گی

وہ نہ ہو گا تو کیا کمی ہو گی 
بس ادھوری سی زندگی ہو گی 
غم ہی چاندی ہے غم ہی سونا ہے 
غم نہ ہو گا تو کیا خوشی ہو گی
اس کو سوچوں اسی کو چاہوں میں
مجھ سے ایسی نہ بندگی ہو گی
بات ہونٹوں پہ جم گئی ان کے
چپ یہ ٹوٹے تو ان کہی ہو گی
ڈوب جائے گی شور میں دنیا
لفظ ہوں گے نہ خاموشی ہو گی

افتخار امام صدیقی

No comments:

Post a Comment