وہ نہ ہو گا تو کیا کمی ہو گی
بس ادھوری سی زندگی ہو گی
غم ہی چاندی ہے غم ہی سونا ہے
غم نہ ہو گا تو کیا خوشی ہو گی
اس کو سوچوں اسی کو چاہوں میں
بات ہونٹوں پہ جم گئی ان کے
چپ یہ ٹوٹے تو ان کہی ہو گی
ڈوب جائے گی شور میں دنیا
لفظ ہوں گے نہ خاموشی ہو گی
افتخار امام صدیقی
No comments:
Post a Comment