ہر طرف رنگ، نور، خوشبو ہے
تیری باتوں میں کیسا جادو ہے
ساری دنیا ہے میری جھولی میں
اور دنیا مِری فقط تُو ہے
چُن رہا تھا میں راستے جس سے
اک سمندر ہے اس میں پوشیدہ
میری پلکوں پہ یہ جو آنسو ہے
آسماں پر دعائیں روشن ہوں
اے خدا سن لے تو، اگر تو ہے
افتخار امام صدیقی
No comments:
Post a Comment