Sunday, 6 September 2020

ہے پیک انسباط یہ شمعِ حرم کی لو

ماہِ نو

ہے پیک انسباط یہ شمعِ حرم کی لو
ہوتی ہے عید جب نظر آتا ہے ماہِ نو
کیا رفعت آفریں ہے تماشاۓ ماہِ نو 
خاکی ہیں ہم لگی ہے مگر آسماں سے لو
دوڑائی اس نے دل میں جو بجلی کی ایک رو
شاید کی برقِ طور کا ٹکڑا ہے ماہِ نو
منزل بہ منزل اس کی جو بڑھتی رہے کی ضو
بن جاۓ کا  کبھی مہِ کامل یہ ماہِ نو
منزل سمجھ کے ٹھہر نہ جائیں جو راہرو
ہر ہر قدم پہ آئیں مقاماتِ نو بہ نو
خوش فہمی اپنی دور ہو شاید بس از درو
گندم  کے انتظار میں بیٹھے ہیں بو کے جو
جب دل کوئی بھی فیصلہ کر لے تو عقل کو
تائید میں اسی کی دلیلیں ملیں گی سو
معیارِ زندگی کی بلندی بجا مگر
یہ کیا کہ دس ابھرتے ہیں جب ڈوبتے ہیں سو
دیکھو کسی میں عیب اگر چار پانچ چھ
پاؤ گے خوبیاں بھی وہیں سات آٹھ نو
آزاد وہ جو اپنے ارادے سے چل سکے
بادہ بہا چلے جسے آزادیوں کی رو
کرتا ہے ہر قدم اسے منزل سے دور تر
 اے واۓ وہ جو راہِ غلط پر ہے تیز رو
سرگرمیوں پہ اہلِ جہنم کی ریجھ کر
ڈر ہے کہیں بہشت کو رکھ دیں نہ ہم گرو
ایں آزمائشے پئے انعامِ دیگر است
بر نعمتے کہ یافتۂ مطمئن مشو

اسد ملتانی

No comments:

Post a Comment