Saturday, 5 September 2020

دوست دوست نہ رہا پیار پیار نہ رہا

فلمی گیت

دوست دوست نہ رہا پیار پیار نہ رہا
زندگی ہمیں تیرا اعتبار نہ رہا
دوست دوست نہ رہا پیار پیار نہ رہا

امانتیں میں پیار کی، گیا تھا جس کو سونپ کر
وہ میرے دوست تم ہی تھے، تمہی تو تھے
جو زندگی کی راہ میں بنے تھے میرے ہمسفر
وہ میرے دوست تم ہی تھے، تمہی تو تھے
سارے بھید کھل گئے، رازدار نہ رہا
زندگی ہمیں تیرا اعتبار نہ رہا

گلے لگی  سہم سہم بھرے گلے سے بولتی
وہ تم نہ تھی تو کون تھا، تمہی تو تھی
سفر کے وقت میں پلک پہ موتیوں کو تولتی
وہ تم نہ تھی تو کون تھا، تمہی تو تھی
نشے کی رات ڈھل گئی، اب خمار نہ رہا
زندگی ہمیں تیرا اعتبار نہ رہا

وفا کا نام لے کے جو دھڑک رہے تھے ہر گھڑی
وہ میرے نیک نیک دن تمہی تو ہو
جو مسکرا کے رہ گئے، زہر کی جب سوئی گڑی
وہ میرے نیک نیک دن تمہی تو ہو
اب کسی کا میرے دل انتظار نہ رہا
زندگی ہمیں تیرا اعتبار نہ رہا

دوست دوست نہ رہا پیار پیار نہ رہا
زندگی ہمیں تیرا اعتبار نہ رہا

شیلندر
(شنکر داس کیسری لال)

No comments:

Post a Comment