فلمی گیت
دوست دوست نہ رہا پیار پیار نہ رہا
زندگی ہمیں تیرا اعتبار نہ رہا
دوست دوست نہ رہا پیار پیار نہ رہا
امانتیں میں پیار کی، گیا تھا جس کو سونپ کر
وہ میرے دوست تم ہی تھے، تمہی تو تھے
وہ میرے دوست تم ہی تھے، تمہی تو تھے
سارے بھید کھل گئے، رازدار نہ رہا
زندگی ہمیں تیرا اعتبار نہ رہا
گلے لگی سہم سہم بھرے گلے سے بولتی
وہ تم نہ تھی تو کون تھا، تمہی تو تھی
سفر کے وقت میں پلک پہ موتیوں کو تولتی
وہ تم نہ تھی تو کون تھا، تمہی تو تھی
نشے کی رات ڈھل گئی، اب خمار نہ رہا
زندگی ہمیں تیرا اعتبار نہ رہا
وفا کا نام لے کے جو دھڑک رہے تھے ہر گھڑی
وہ میرے نیک نیک دن تمہی تو ہو
جو مسکرا کے رہ گئے، زہر کی جب سوئی گڑی
وہ میرے نیک نیک دن تمہی تو ہو
اب کسی کا میرے دل انتظار نہ رہا
زندگی ہمیں تیرا اعتبار نہ رہا
دوست دوست نہ رہا پیار پیار نہ رہا
زندگی ہمیں تیرا اعتبار نہ رہا
شیلندر
(شنکر داس کیسری لال)
(شنکر داس کیسری لال)
No comments:
Post a Comment