Thursday, 17 September 2020

لایا ہے دل پر کتنی خرابی

لایا ہے دل پر کتنی خرابی

اے یار تیرا حسنِ شرابی

پیرہن اس کا ہے سادہ رنگیں

یا عکسِ مے سے شیشہ گلابی

عشرت کی شب کا وہ دورِ آخر

نورِ سحر کی وہ لا جوابی

اس نازنیں نے با وصفِ عصمت

کی وصل کی شب وہ بے حجابی

شوق اپنی بھولا گستاخ دستی

دل ساری شوخی حاضر جوابی

وہ رُوئے زیبا ہے جانِ خوبی

ہیں وصف جس کے سارے کتابی

اس قید غم پر قربان حسرت

عالی جنابی، گردوں رکابی


حسرت موہانی

No comments:

Post a Comment