خوشبو سی آ رہی ہے ادھر زعفران کی
کھڑکی کھلی ہے غالباً ان کے مکان کی
ہارے ہوئے پرندے ذرا اڑ کے دیکھ تو
آ جاۓ گی زمین پہ چھت آسمان کی
بجھ جائے سرِ عام ہی جیسے کوئی چراغ
جیوں لوٹ لے کہار ہی دلہن کی پالکی
حالت یہی ہے آج کل ہندوستان کی
اوروں کے گھر کی دھوپ اسے کیوں پسند ہو
بیچی ہو جس نے روشنی اپنے مکان کی
زلفوں کے پیچ و خم میں اسے مت تلاشیۓ
یہ شاعری زباں ہے کسی بے زبان کی
گوپال داس نیرج
No comments:
Post a Comment