Thursday, 8 October 2020

لبوں پہ قفل رہے کان اپنے بند رکھو

 لبوں پہ قفل رہے، کان اپنے بند رکھو

بغیرِ چون و چرا خود کو کار بند رکھو

کسی غریب کی بیٹی جو ہو تو ہو رسوا

حضور! نام تم اپنا ہی سر بلند رکھو

کبھی تو لوگوں کا بھی امتحان لازم ہے

یہ کیا کہ خود کو بہرحال 'یند بند' رکھو

کسی کا رنج گھٹاؤ، نہیں ضروری کوئی

فقط دکھاوے کو صورت ہی دردمند رکھو

تمہارے ساتھ اگر ہو، تڑپ کے چیخ اٹھو

وہ دوسروں کے لیے بات کیوں پسند رکھو

کبھی کسی کو بھی کمتر خیال مت کرنا

دلوں سے دور ہمیشہ تم ایسا گند رکھو

وہ اپنے آپ میں کامل، خیال ہے اس کا

سو اس کے سامنے نصیحت، نہ کوئی پند رکھو

مقام لوگوں میں تم کو اگر بنانا ھے

مٹھاس باتوں میں اور اپنا لہجہ قند رکھو

رشیدؔ! مانا کہ دشمن ہزار ہیں، لیکن

جڑوں کے کاٹنے کو دوست بھی تو چند رکھو


رشید حسرت


یند بند براہوئی زبان میں تھکے ہارے اور نڈھال ہونے کے معنوں میں ہے۔

No comments:

Post a Comment