Monday, 5 October 2020

لکھے جو مدح تری زلف خم بہ خم کے لئے

 لکھے جو مدح تری زلفِ خم بہ خم کے لیے

سمندروں کی ضرورت ہے اس قلم کے لیے

تِرا ہی نور ہے ہر سرزمین پہ سایہ فگن

تُو ہی عرب کے لیے ہے تُو ہی عجم کے لیے

تجھی میں مجھ کو دو عالم دکھائی دیتے ہیں

وہ اور ہیں جو بھٹکتے ہیں جامِ جم کے لیے

میں آنکھ بند کروں اور وہاں پہنچ جاؤں

پروں کی قید نہیں طائرِ حرم کے لیے

نہیں ہے کچھ بھی مِرے پاس لاالہ کے سوا

مگر یہ ضرب ہے کافی ہر اک صنم کے لیے

کوئی تو ابر کا ٹکڑا ادھر بھی آ نکلے

ترس گیا ہوں تِرے سایۂ کرم کے لیے

قتیل رکھتا ہوں حبِ رسولﷺ سینے میں

یہ زادِ راہ بہت ہے مجھے عدم کے لیے


قتیل شفائى

No comments:

Post a Comment