دروازہ کھلا رکھا تھا، برسات سے پہلے
ہم، تم سے شناسا تھے، ملاقات سے پہلے
یہ سوچ بھی اِک سلسلۂ خواب نما ہے
ہر بات پہنچ جاتی ہے، ہربات سے پہلے
یہ کیسا کرشمہ ہے کہ وہ سر و سخن بھی
اب ہاتھ بڑھاتا ہے، مِرے ہاتھ سے پہلے
یہ گل ہے، وہ نغمہ، یہ صدف ہے، وہ ستارا
مژدہ یہ ملا، وصل کی سوغات سے پہلے
اب دشت کی دہشت ہے، سرابوں کا سفر ہے
تم، ہم سے ملے، تلخئ حالات سے پہلے
طوفان کی نیت کی خبر رکھتے ہیں، سو ہم
لَو، دل کی بڑھا لیتے ہیں، ظلمات سے پہلے
کوئی بھی نہ تھا، مجھ سے خراباتئ دوراں
یہ زہر تو موجود تھا، سقراط سے پہلے
ہم ایسے فقیروں کو یوں حیرت سے نہ تکیو
ہم کرب سے گزرے ہیں، کرامات سے پہلے
در بند ہوں، اک کنجِ خرابہ ہے، مگر شاد
اک ذات ہے موجود، مری ذات سے پہلے
عطا شاد
No comments:
Post a Comment