Wednesday, 14 October 2020

دیکھا جو اس طرف تو بدن پر نظر گئی

 دیکھا جو اس طرف تو بدن پر نظر گئی

اک آگ تھی جو میرے پیالے میں بھر گئی

ان راستوں میں نام و نسب کا نشاں نہ تھا

ہنگامۂ بہار میں خلقت جدھر گئی

اک داستان اب بھی سناتے ہیں فرش و بام

وہ کون تھی جو رقص کے عالم میں مر گئی

اتنا قریب پا کے اسے دم بخود تھا میں

ایسا لگا زمین کی گردش ٹھہر گئی


ثروت حسین

No comments:

Post a Comment