رات بھر ان بند آنکھوں سے بھی کیا دیکھنا
دیکھنا ایک خواب اور وہ بھی ادھورا دیکھنا
کچھ دنوں سے اک عجب معمول ان آنکھوں میں ہے
کچھ آئے یا نہ آئے، پھر بھی رستہ دیکھنا
ڈھونڈنا گلشن کے پھولوں میں اسی کی شکل کو
چاند کے آئینے میں اس کا ہی چہرہ دیکھنا
خود ہی تنہائی میں کرنا خواہشوں سے گفتگو
اور، ارمانوں کی بربادی کو تنہا دیکھنا
انور جلالپوری
No comments:
Post a Comment