Wednesday, 7 October 2020

رات بھر ان بند آنکھوں سے بھی کیا دیکھنا

 رات بھر ان بند آنکھوں سے بھی کیا دیکھنا

دیکھنا ایک خواب اور وہ بھی ادھورا دیکھنا

کچھ دنوں سے اک عجب معمول ان آنکھوں میں ہے

کچھ آئے یا نہ آئے، پھر بھی رستہ دیکھنا

ڈھونڈنا گلشن کے پھولوں میں اسی کی شکل کو

چاند کے آئینے میں اس کا ہی چہرہ دیکھنا

خود ہی تنہائی میں کرنا خواہشوں سے گفتگو

اور، ارمانوں کی بربادی کو تنہا دیکھنا


انور جلالپوری

No comments:

Post a Comment