Monday, 12 October 2020

گلاب کیکر پہ کب اگے گا

خمیر


گلاب کیکر پہ کب اگے گا

کہ خار دونوں میں مشترک ہے

میں کس طرح سوچنے لگا ہوں

مجھے رفیقوں پہ کتنا شک ہے

یہ آدمیت عجیب شے ہے

سرشت میں کون سا نمک ہے

کہ آگ، پانی، ہوا، یہ مٹی

تو ہر بشر کا ہے تانا بانا

کہاں غلط ہو گیا مرکب

نہ ہم ہی سمجھے، نہ تم نے جانا

غریب کے ٹوٹے پھوٹے گھر میں

ہوا تولد تو شاہزادہ

بلند مسند کے گھر پیادہ

ولی کے گھر میں حرام زادہ


اختر الایمان

No comments:

Post a Comment