Wednesday, 6 January 2021

گلی گلی مری وحشت لیے پھرے ہے مجھے

 گلی گلی مِری وحشت لیے پھِرے ہے مجھے

کہ سنگ و خشت کی لذت لیے پھرے ہے مجھے

نہ کوئی منزل مقصود ہے، نہ راہ طلب

بھٹکتے رہنے کی عادت لیے پھرے ہے مجھے

نہ مال و زر کی تمنا، نہ زندگی کی ہوس

نہ جانے کون سی قوت لیے پھرے ہے مجھے

حرم سے دَیر تلک، دَیر سے حرم کی طرف

نہ جانے کس کی عقیدت لیے پھرے ہے مجھے

یہ مفسدوں کا جہاں،۔ یہ تضاد کی دنیا

بس ایک حرفِ محبت لیے پھرے ہے مجھے

جو بس چلے نہ اٹھوں تیرے آستانے سے

یہ سر پھر جو ہے رفعت لیے پھرے ہے مجھے


رفعت سروش

No comments:

Post a Comment