ہم نے ہونٹوں پہ تبسم کو سجا کر دیکھا
یعنی زخموں کو پھر اک بار ہرا کر دیکھا
ساری دنیا میں نظر آنے لگے تیرے نقوش
پردہ جب چشمِ بصیرت سے اٹھا کر دیکھا
دور پھر بھی نہ ہوئی قلب و نظر کی ظلمت
ہم نے خوں اپنا چراغوں میں جلا کر دیکھا
اپنا چہرہ نظر آیا مجھے اس چہرے میں
اس کے چہرے سے جو چہرے کو ہٹا کر دیکھا
نسرین نقاش
No comments:
Post a Comment