Sunday, 10 January 2021

ہم نے ہونٹوں پہ تبسم کو سجا کر دیکھا

 ہم نے ہونٹوں پہ تبسم کو سجا کر دیکھا

یعنی زخموں کو پھر اک بار ہرا کر دیکھا

ساری دنیا میں نظر آنے لگے تیرے نقوش

پردہ جب چشمِ بصیرت سے اٹھا کر دیکھا

دور پھر بھی نہ ہوئی قلب و نظر کی ظلمت

ہم نے خوں اپنا چراغوں میں جلا کر دیکھا

اپنا چہرہ نظر آیا مجھے اس چہرے میں

اس کے چہرے سے جو چہرے کو ہٹا کر دیکھا


نسرین نقاش

No comments:

Post a Comment