Saturday, 9 January 2021

روکھی سوکھی کھا سکتے تھے

 روکھی سوکھی کھا سکتے تھے

تیرا ساتھ نبھا سکتے تھے

کاٹ کے جڑ اک دوجے کی ہم

کتنے پھول اگا سکتے تھے

ہم تلوار اٹھا نہیں پائے

ہم آواز اٹھا سکتے تھے

غربت کا احسان تھا ہم پر

اک تھالی میں کھا سکتے تھے

تم تعبیر خدا سے مانگو

ہم بس خواب دکھا سکتے تھے

ہم کو رونا آ جاتا تو

ہم بھی شور مچا سکتے تھے

خوابوں نے جو آگ لگائی

اس کو اشک بجھا سکتے تھے


مستحسن جامی

No comments:

Post a Comment