Wednesday, 6 January 2021

ہمسفر دھند ہے رہگزر دھند ہے

 ہمسفر دھند ہے، رہ گزر دُھند ہے

دھند ہی روگ ہے، چارہ گر دھند ہے

آج کھڑکی سے باہر نظر جو گئی

کچھ نہ آیا نظر، اس قدر دھند ہے

چاند بھی سہما سہما سا دُبکا ہوا

آسماں پہ لہر در لہر دھند ہے

رات گہری ہوئی صبح ٹھہری ہوئی

شہر میں آج کل ہر پہر دھند ہے

سب جہازوں کو سڑکوں کو روکے کھڑی

سب کے رستے میں سینہ سِپر دھند ہے

شہرِ لاہور کتنا طلسمی لگے

جابجا کو بکو، در بدر دھند ہے


عنبرین خان

No comments:

Post a Comment