کرتا ہے کون پیار کی تشہیر اس طرح
نظروں میں آ گئی مِری تصویر اس طرح
جو ہاتھ میں تھا وہ بھی میرے ہاتھ میں نہ تھا
کھل کھیلتی رہی مِری تقدیر اس طرح
دل کے معاملات سبھوں پر نہ کھُل پڑیں
کرنا پڑا کلام کو تسطیر اس طرح
میں پھر نکل کے آپ کے دل سے نہ جا سکوں
اے کاش! عشق ڈال دے زنجیر اس طرح
جو آپ کے دل کو ہمارے دل سے جوڑ دے
پُل آپ نے کیا کوئی تعمیر اس طرح
ہم کو دکھائے جاگتی آنکھوں سے خواب خواب
ملتی کہاں ہے کوئی تعبیر اس طرح
شبہ طراز
No comments:
Post a Comment