طوفان سے نکلنے کے آثار بھی نہیں
جو عزم ہم کریں گے تو دُشوار بھی نہیں
سُوکھی ہوئی کلی کو بڑی آس تھی مگر
آئی بہار لَوٹ کے اس بار بھی نہیں
آلام کے بغیر مِلا کیا بھلا مجھے
لیکن میں شہرِ شوق سے بیزار بھی نہیں
گلشن کے واسطے یوں لہو تک دیا مگر
آیا مِرے نصیب کوئی خار بھی نہیں
آندھی سے لڑ سکے گی مِری ناؤ کیا ذرا
قسمت شکستہ ہاتھ میں پتوار بھی نہیں
آفات سے بچایا،۔ کبھی ڈھال بن گیا
بہتر کوئی دعا سے ہے ہتھیار بھی نہیں
پوچھو نہ التفات مِرے اک عزیز کی
دشمن نے اس قدر دئیے آزار بھی نہیں
عارف وہی ہے تخت پہ اس شہر میں فقط
جو شخص آج صاحبِ کردار بھی نہیں
جاوید عارف
No comments:
Post a Comment