Tuesday, 16 March 2021

ایک قطرہ نہ کہیں خوں کا بہا میرے بعد

 ایک قطرہ نہ کہیں خوں کا بہا میرے بعد 

زنگ آلود ہوئی تیغ جفا میرے بعد 

کیوں ہر اک موڑ پہ ہوتا ہے گھٹن کا احساس 

تنگ کیوں ہونے لگی میری فضا میرے بعد 

دیکھتے دیکھتے ہی ماند پڑے شمس و قمر 

خود سے بیزار ہوئے صبح مسا میرے بعد 

ہر طرف زردئ رخسار نظر آتی ہے 

کہیں روشن نہ ملا رنگِ حنا میرے بعد 

رک گیا قافلۂ عمر سبک رو شاید 

دیکھ خاموش ہے آواز درا میرے بعد 

زندگی بھر نہ کیا یاد کسی نے اور اب 

پوچھتے ہیں وہ میرے گھر کا پتا میرے بعد 

عمر بھر اس کو سنبھالے ہوئے رکھا میں نے 

گر نہ جائے کہیں دیوار انا میرے بعد 

اب بھی کیا اس میں ہے آباد سیاہی ہمدم

میرے ویرانے کا کیا حال ہوا میرے بعد


ہمدم کاشمیری

No comments:

Post a Comment